الأعراف 7:172 واذ اخذ ربك من بني ادم من ظهورهم ذريتهم واشهدهم على انفسهم الست بربكم قالوا بلى شهدنا ان تقولوا يوم القيامة انا كنا عن هاذا غافلين ١٧٢
وَاِذْ
اَخَذَ
رَبُّكَ
مِنْ
بَنِیْۤ
اٰدَمَ
مِنْ
ظُهُوْرِهِمْ
ذُرِّیَّتَهُمْ
وَاَشْهَدَهُمْ
عَلٰۤی
اَنْفُسِهِمْ ۚ
اَلَسْتُ
بِرَبِّكُمْ ؕ
قَالُوْا
بَلٰی ۛۚ
شَهِدْنَا ۛۚ
اَنْ
تَقُوْلُوْا
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
اِنَّا
كُنَّا
عَنْ
هٰذَا
غٰفِلِیْنَ
۟ۙ
اور اے نبی لوگو کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا " ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ " ہم تو اس بات سے بیخبر تھے "
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭…
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہ
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭…
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات