الأعراف 7:166 فلما عتوا عن ما نهوا عنه قلنا لهم كونوا قردة خاسيين ١٦٦
فَلَمَّا
عَتَوْا
عَنْ
مَّا
نُهُوْا
عَنْهُ
قُلْنَا
لَهُمْ
كُوْنُوْا
قِرَدَةً
خٰسِىِٕیْنَ
۟
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اصحاب سبت ٭٭…
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔
جیسا کہ
اصحاب سبت ٭٭…
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ