الأعراف 7:164 واذ قالت امة منهم لم تعظون قوما الله مهلكهم او معذبهم عذابا شديدا قالوا معذرة الى ربكم ولعلهم يتقون ١٦٤
وَاِذْ
قَالَتْ
اُمَّةٌ
مِّنْهُمْ
لِمَ
تَعِظُوْنَ
قَوْمَا ۙ
للّٰهُ
مُهْلِكُهُمْ
اَوْ
مُعَذِّبُهُمْ
عَذَابًا
شَدِیْدًا ؕ
قَالُوْا
مَعْذِرَةً
اِلٰی
رَبِّكُمْ
وَلَعَلَّهُمْ
یَتَّقُوْنَ
۟
اور انہیں یہ بھی یاد دلاؤ کہ جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ " تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ " ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں "
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اصحاب سبت ٭٭…
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔
جیسا کہ
اصحاب سبت ٭٭…
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ