الأعراف 7:156 ۞ واكتب لنا في هاذه الدنيا حسنة وفي الاخرة انا هدنا اليك قال عذابي اصيب به من اشاء ورحمتي وسعت كل شيء فساكتبها للذين يتقون ويوتون الزكاة والذين هم باياتنا يومنون ١٥٦
وَاكْتُبْ
لَنَا
فِیْ
هٰذِهِ
الدُّنْیَا
حَسَنَةً
وَّفِی
الْاٰخِرَةِ
اِنَّا
هُدْنَاۤ
اِلَیْكَ ؕ
قَالَ
عَذَابِیْۤ
اُصِیْبُ
بِهٖ
مَنْ
اَشَآءُ ۚ
وَرَحْمَتِیْ
وَسِعَتْ
كُلَّ
شَیْءٍ ؕ
فَسَاَكْتُبُهَا
لِلَّذِیْنَ
یَتَّقُوْنَ
وَیُؤْتُوْنَ
الزَّكٰوةَ
وَالَّذِیْنَ
هُمْ
بِاٰیٰتِنَا
یُؤْمِنُوْنَ
۟ۚ
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالٰی کی رحمت اور انسان ٭٭…
چونکہ کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں، نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت، عدل اور پورے علم
اللہ تعالٰی کی رحمت اور انسان ٭٭…
چونکہ کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے ک