وَاخْتَارَ
مُوْسٰی
قَوْمَهٗ
سَبْعِیْنَ
رَجُلًا
لِّمِیْقَاتِنَا ۚ
فَلَمَّاۤ
اَخَذَتْهُمُ
الرَّجْفَةُ
قَالَ
رَبِّ
لَوْ
شِئْتَ
اَهْلَكْتَهُمْ
مِّنْ
قَبْلُ
وَاِیَّایَ ؕ
اَتُهْلِكُنَا
بِمَا
فَعَلَ
السُّفَهَآءُ
مِنَّا ۚ
اِنْ
هِیَ
اِلَّا
فِتْنَتُكَ ؕ
تُضِلُّ
بِهَا
مَنْ
تَشَآءُ
وَتَهْدِیْ
مَنْ
تَشَآءُ ؕ
اَنْتَ
وَلِیُّنَا
فَاغْفِرْ
لَنَا
وَارْحَمْنَا
وَاَنْتَ
خَیْرُ
الْغٰفِرِیْنَ
۟
اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے ہمارے مقرر کيے ہوئے وقت کے ليے پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو موسی نے کہا اے رب، اگر تو چاہتا تو پہلے ہی تو ان کو ہلاک کردیتا اور مجھ کو بھی کیا تو ہم کو ایسے کام پر ہلاک کرے گا جو ہمارے اندر کے بیوقوفوں نے کیا یہ سب تیری آزمائش ہے، تو اس سے جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت دے تو ہی ہمارا تھامنے والا ہے پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم میں سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے۔ کہنے لگے: اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو، نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ ت
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم میں سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شرو