الأعراف 7:144 قال يا موسى اني اصطفيتك على الناس برسالاتي وبكلامي فخذ ما اتيتك وكن من الشاكرين ١٤٤
قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اِنِّی
اصْطَفَیْتُكَ
عَلَی
النَّاسِ
بِرِسٰلٰتِیْ
وَبِكَلَامِیْ ۖؗ
فَخُذْ
مَاۤ
اٰتَیْتُكَ
وَكُنْ
مِّنَ
الشّٰكِرِیْنَ
۟
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد