الأعراف 7:128 قال موسى لقومه استعينوا بالله واصبروا ان الارض لله يورثها من يشاء من عباده والعاقبة للمتقين ١٢٨
قَالَ
مُوْسٰی
لِقَوْمِهِ
اسْتَعِیْنُوْا
بِاللّٰهِ
وَاصْبِرُوْا ۚ
اِنَّ
الْاَرْضَ
لِلّٰهِ ۙ۫
یُوْرِثُهَا
مَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ ؕ
وَالْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ
۟
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا " اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں "
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی ان
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان