وَقَالَ
الْمَلَاُ
مِنْ
قَوْمِ
فِرْعَوْنَ
اَتَذَرُ
مُوْسٰی
وَقَوْمَهٗ
لِیُفْسِدُوْا
فِی
الْاَرْضِ
وَیَذَرَكَ
وَاٰلِهَتَكَ ؕ
قَالَ
سَنُقَتِّلُ
اَبْنَآءَهُمْ
وَنَسْتَحْیٖ
نِسَآءَهُمْ ۚ
وَاِنَّا
فَوْقَهُمْ
قٰهِرُوْنَ
۟
قوم فرعون کے سرداروں نے کہا، کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑیں فرعون نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی ان
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان