قَالُوْۤا
اُوْذِیْنَا
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
تَاْتِیَنَا
وَمِنْ
بَعْدِ
مَا
جِئْتَنَا ؕ
قَالَ
عَسٰی
رَبُّكُمْ
اَنْ
یُّهْلِكَ
عَدُوَّكُمْ
وَیَسْتَخْلِفَكُمْ
فِی
الْاَرْضِ
فَیَنْظُرَ
كَیْفَ
تَعْمَلُوْنَ
۟۠
وہ کہنے لگے (اے موسیٰ (ؑ) ہمیں تو ایذا پہنچی آپ ؑ کے آنے سے قبل بھی اور آپ ؑ کے آنے کے بعد بھی (موسیٰ ؑ نے) فرمایا (گھبراؤ نہیں !) ہوسکتا ہے عنقریب اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں خلافت عطا کر دے زمین میں پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو !
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی ان
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان