العنكبوت 29:8 ووصينا الانسان بوالديه حسنا وان جاهداك لتشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما الي مرجعكم فانبيكم بما كنتم تعملون ٨
وَوَصَّیْنَا
الْاِنْسَانَ
بِوَالِدَیْهِ
حُسْنًا ؕ
وَاِنْ
جَاهَدٰكَ
لِتُشْرِكَ
بِیْ
مَا
لَیْسَ
لَكَ
بِهٖ
عِلْمٌ
فَلَا
تُطِعْهُمَا ؕ
اِلَیَّ
مَرْجِعُكُمْ
فَاُنَبِّئُكُمْ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ( اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم( سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسان کا وجود ٭٭…
پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ
انسان کا وجود ٭٭…
پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہ