اَىِٕنَّكُمْ
لَتَاْتُوْنَ
الرِّجَالَ
وَتَقْطَعُوْنَ
السَّبِیْلَ ۙ۬
وَتَاْتُوْنَ
فِیْ
نَادِیْكُمُ
الْمُنْكَرَ ؕ
فَمَا
كَانَ
جَوَابَ
قَوْمِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
قَالُوا
ائْتِنَا
بِعَذَابِ
اللّٰهِ
اِنْ
كُنْتَ
مِنَ
الصّٰدِقِیْنَ
۟
کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور راسته روكتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو پس اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لاؤ
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
سب سے خراب عادت ٭٭…
لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل
سب سے خراب عادت ٭٭…
لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی