العنكبوت 29:29 اينكم لتاتون الرجال وتقطعون السبيل وتاتون في ناديكم المنكر فما كان جواب قومه الا ان قالوا ايتنا بعذاب الله ان كنت من الصادقين ٢٩
اَىِٕنَّكُمْ
لَتَاْتُوْنَ
الرِّجَالَ
وَتَقْطَعُوْنَ
السَّبِیْلَ ۙ۬
وَتَاْتُوْنَ
فِیْ
نَادِیْكُمُ
الْمُنْكَرَ ؕ
فَمَا
كَانَ
جَوَابَ
قَوْمِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
قَالُوا
ائْتِنَا
بِعَذَابِ
اللّٰهِ
اِنْ
كُنْتَ
مِنَ
الصّٰدِقِیْنَ
۟
Kya tumhara haal yeh hai ke mardon ke paas jatey ho (to satisfy your lust) , aur raahzani (highway robbery) karte ho, aur apni majlison mein burey kaam karte ho?” Phir koi jawab uski qaum ke paas iske siwa na tha ke unhon ne kaha “ le aa Allah ka azaab agar tu saccha hai”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سب سے خراب عادت ٭٭…
لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل
سب سے خراب عادت ٭٭…
لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی