الأنفال 8:7 واذ يعدكم الله احدى الطايفتين انها لكم وتودون ان غير ذات الشوكة تكون لكم ويريد الله ان يحق الحق بكلماته ويقطع دابر الكافرين ٧
وَاِذْ
یَعِدُكُمُ
اللّٰهُ
اِحْدَی
الطَّآىِٕفَتَیْنِ
اَنَّهَا
لَكُمْ
وَتَوَدُّوْنَ
اَنَّ
غَیْرَ
ذَاتِ
الشَّوْكَةِ
تَكُوْنُ
لَكُمْ
وَیُرِیْدُ
اللّٰهُ
اَنْ
یُّحِقَّ
الْحَقَّ
بِكَلِمٰتِهٖ
وَیَقْطَعَ
دَابِرَ
الْكٰفِرِیْنَ
۟ۙ
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭…
مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔
ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭…
مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذ