الأنفال 8:32 واذ قالوا اللهم ان كان هاذا هو الحق من عندك فامطر علينا حجارة من السماء او ايتنا بعذاب اليم ٣٢
وَاِذْ
قَالُوا
اللّٰهُمَّ
اِنْ
كَانَ
هٰذَا
هُوَ
الْحَقَّ
مِنْ
عِنْدِكَ
فَاَمْطِرْ
عَلَیْنَا
حِجَارَةً
مِّنَ
السَّمَآءِ
اَوِ
ائْتِنَا
بِعَذَابٍ
اَلِیْمٍ
۟
اور وہ بات بھی یا د ہے جو اُنہوں نے کہی تھی کہ ”خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔“1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭…
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ” جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭…
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت