الأنفال 8:31 واذا تتلى عليهم اياتنا قالوا قد سمعنا لو نشاء لقلنا مثل هاذا ان هاذا الا اساطير الاولين ٣١
وَاِذَا
تُتْلٰی
عَلَیْهِمْ
اٰیٰتُنَا
قَالُوْا
قَدْ
سَمِعْنَا
لَوْ
نَشَآءُ
لَقُلْنَا
مِثْلَ
هٰذَاۤ ۙ
اِنْ
هٰذَاۤ
اِلَّاۤ
اَسَاطِیْرُ
الْاَوَّلِیْنَ
۟
جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ“ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں "
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭…
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ” جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭…
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت