الأنبياء 21:97 واقترب الوعد الحق فاذا هي شاخصة ابصار الذين كفروا يا ويلنا قد كنا في غفلة من هاذا بل كنا ظالمين ٩٧
وَاقْتَرَبَ
الْوَعْدُ
الْحَقُّ
فَاِذَا
هِیَ
شَاخِصَةٌ
اَبْصَارُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا ؕ
یٰوَیْلَنَا
قَدْ
كُنَّا
فِیْ
غَفْلَةٍ
مِّنْ
هٰذَا
بَلْ
كُنَّا
ظٰلِمِیْنَ
۟
اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یافت کی اولاد ٭٭…
” ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے “۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ” ان کی توبہ مقبول نہیں “۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ نوح علیہ السلام کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئ
یافت کی اولاد ٭٭…
” ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے “۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ” ان کی توبہ مقبول نہیں “۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج