الأنبياء 21:9 ثم صدقناهم الوعد فانجيناهم ومن نشاء واهلكنا المسرفين ٩
ثُمَّ
صَدَقْنٰهُمُ
الْوَعْدَ
فَاَنْجَیْنٰهُمْ
وَمَنْ
نَّشَآءُ
وَاَهْلَكْنَا
الْمُسْرِفِیْنَ
۟
پھر دیکھ لو کہ آخر کار ہم نے اُن کے ساتھ اپنے وعدے پُورے کیے، اور اُنہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچا لیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کر دیا۔ 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭…
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭…
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ ت