الأنبياء 21:59 قالوا من فعل هاذا بالهتنا انه لمن الظالمين ٥٩
قَالُوْا
مَنْ
فَعَلَ
هٰذَا
بِاٰلِهَتِنَاۤ
اِنَّهٗ
لَمِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
(اُنہوں نے آ کر بتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے "ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ"
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭…
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭…
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ