الأنبياء 21:56 قال بل ربكم رب السماوات والارض الذي فطرهن وانا على ذالكم من الشاهدين ٥٦
قَالَ
بَلْ
رَّبُّكُمْ
رَبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
الَّذِیْ
فَطَرَهُنَّ ۖؗ
وَاَنَا
عَلٰی
ذٰلِكُمْ
مِّنَ
الشّٰهِدِیْنَ
۟
(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭…
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی “۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ۔ ” یہ ہیں ہماری زبردست
یہودی روایتوں سے بچو ٭٭…
فرمان ہے کہ ” خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھی