الأنبياء 21:44 بل متعنا هاولاء واباءهم حتى طال عليهم العمر افلا يرون انا ناتي الارض ننقصها من اطرافها افهم الغالبون ٤٤
بَلْ
مَتَّعْنَا
هٰۤؤُلَآءِ
وَاٰبَآءَهُمْ
حَتّٰی
طَالَ
عَلَیْهِمُ
الْعُمُرُ ؕ
اَفَلَا
یَرَوْنَ
اَنَّا
نَاْتِی
الْاَرْضَ
نَنْقُصُهَا
مِنْ
اَطْرَافِهَا ؕ
اَفَهُمُ
الْغٰلِبُوْنَ
۟
اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو اور ان کے آبا و اجداد کو ہم زندگی کا سروسامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ ان کو دن لگ گئے۔ 1 مگر کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں؟ 2 پھر کیا یہ غالب آجائیں گے؟ 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭…
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ا
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭…
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، ا