الأنبياء 21:40 بل تاتيهم بغتة فتبهتهم فلا يستطيعون ردها ولا هم ينظرون ٤٠
بَلْ
تَاْتِیْهِمْ
بَغْتَةً
فَتَبْهَتُهُمْ
فَلَا
یَسْتَطِیْعُوْنَ
رَدَّهَا
وَلَا
هُمْ
یُنْظَرُوْنَ
۟
وہ بلا اچانک آئے گی اور اِنہیں اِس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ اِن کو لمحہ بھر مُہلت ہی مل سکے گی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭…
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ” تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے “۔
«لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ الن
خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭…
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں