الأنبياء 21:36 واذا راك الذين كفروا ان يتخذونك الا هزوا اهاذا الذي يذكر الهتكم وهم بذكر الرحمان هم كافرون ٣٦
وَاِذَا
رَاٰكَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا
اِنْ
یَّتَّخِذُوْنَكَ
اِلَّا
هُزُوًا ؕ
اَهٰذَا
الَّذِیْ
یَذْكُرُ
اٰلِهَتَكُمْ ۚ
وَهُمْ
بِذِكْرِ
الرَّحْمٰنِ
هُمْ
كٰفِرُوْنَ
۟
یہ منکرینِ حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں”کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداوٴں کا ذکر کیا کرتا ہے؟“ 1 اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمٰن کے ذکر سے منکر ہیں۔ 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جلد باز انسان ٭٭…
ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے
جلد باز انسان ٭٭…
ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی