الأنبياء 21:35 كل نفس ذايقة الموت ونبلوكم بالشر والخير فتنة والينا ترجعون ٣٥
كُلُّ
نَفْسٍ
ذَآىِٕقَةُ
الْمَوْتِ ؕ
وَنَبْلُوْكُمْ
بِالشَّرِّ
وَالْخَیْرِ
فِتْنَةً ؕ
وَاِلَیْنَا
تُرْجَعُوْنَ
۟
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ‘ اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال رک تم سب کی آزمائش کررہے ہیں ۔ آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے “۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خضر علیہ السلام مر چکے ہیں ٭٭…
جتنے لوگ ہوئے، سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» [55-الرحمن:26-27] ” تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے “۔
اسی
خضر علیہ السلام مر چکے ہیں ٭٭…
جتنے لوگ ہوئے، سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَا