الأنبياء 21:104 يوم نطوي السماء كطي السجل للكتب كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين ١٠٤
یَوْمَ
نَطْوِی
السَّمَآءَ
كَطَیِّ
السِّجِلِّ
لِلْكُتُبِ ؕ
كَمَا
بَدَاْنَاۤ
اَوَّلَ
خَلْقٍ
نُّعِیْدُهٗ ؕ
وَعْدًا
عَلَیْنَا ؕ
اِنَّا
كُنَّا
فٰعِلِیْنَ
۟
وہ دن جب کہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طر ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے ، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات ٭٭…
” یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے “۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ» [39-الزمر:67] ” ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی تھی، جانا ہی نہیں “۔ تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ
اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات ٭٭…
” یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے “۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ»