قُلْ
مَنْ
یُّنَجِّیْكُمْ
مِّنْ
ظُلُمٰتِ
الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ
تَدْعُوْنَهٗ
تَضَرُّعًا
وَّخُفْیَةً ۚ
لَىِٕنْ
اَنْجٰىنَا
مِنْ
هٰذِهٖ
لَنَكُوْنَنَّ
مِنَ
الشّٰكِرِیْنَ
۟
کہو، کون تم کو نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے، تم اس کو پکارتے ہو عاجزی سے اور چپکے چپکے کہ اگر خدا نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکر گزار بندوں میں سے بن جائیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احسان فراموش نہ بنو ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر
احسان فراموش نہ بنو ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خ