الأنعام 6:39 والذين كذبوا باياتنا صم وبكم في الظلمات من يشا الله يضلله ومن يشا يجعله على صراط مستقيم ٣٩
وَالَّذِیْنَ
كَذَّبُوْا
بِاٰیٰتِنَا
صُمٌّ
وَّبُكْمٌ
فِی
الظُّلُمٰتِ ؕ
مَنْ
یَّشَاِ
اللّٰهُ
یُضْلِلْهُ ؕ
وَمَنْ
یَّشَاْ
یَجْعَلْهُ
عَلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ
۟
مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭…
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭…
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا»