الأنعام 6:31 قد خسر الذين كذبوا بلقاء الله حتى اذا جاءتهم الساعة بغتة قالوا يا حسرتنا على ما فرطنا فيها وهم يحملون اوزارهم على ظهورهم الا ساء ما يزرون ٣١
قَدْ
خَسِرَ
الَّذِیْنَ
كَذَّبُوْا
بِلِقَآءِ
اللّٰهِ ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
جَآءَتْهُمُ
السَّاعَةُ
بَغْتَةً
قَالُوْا
یٰحَسْرَتَنَا
عَلٰی
مَا
فَرَّطْنَا
فِیْهَا ۙ
وَهُمْ
یَحْمِلُوْنَ
اَوْزَارَهُمْ
عَلٰی
ظُهُوْرِهِمْ ؕ
اَلَا
سَآءَ
مَا
یَزِرُوْنَ
۟
نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے "افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی" اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر! ٭٭…
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہیں ہو گا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے «الْحَيَاةِ» ہو اور ممکن ہے «الْأَعْمَالِ»
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر! ٭٭…
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہی