اَوْ
تَقُوْلُوْا
لَوْ
اَنَّاۤ
اُنْزِلَ
عَلَیْنَا
الْكِتٰبُ
لَكُنَّاۤ
اَهْدٰی
مِنْهُمْ ۚ
فَقَدْ
جَآءَكُمْ
بَیِّنَةٌ
مِّنْ
رَّبِّكُمْ
وَهُدًی
وَّرَحْمَةٌ ۚ
فَمَنْ
اَظْلَمُ
مِمَّنْ
كَذَّبَ
بِاٰیٰتِ
اللّٰهِ
وَصَدَفَ
عَنْهَا ؕ
سَنَجْزِی
الَّذِیْنَ
یَصْدِفُوْنَ
عَنْ
اٰیٰتِنَا
سُوْٓءَ
الْعَذَابِ
بِمَا
كَانُوْا
یَصْدِفُوْنَ
۟
یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے پس آچکی تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے جو لوگ ہماری نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں ہم ان کو ان کے اعراض کی پاداش میں بہت برا عذاب دیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین ہیں ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کر دیئے “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْن
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین ہیں ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کر دیئے “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْلَآ ا