ثُمَّ
اٰتَیْنَا
مُوْسَی
الْكِتٰبَ
تَمَامًا
عَلَی
الَّذِیْۤ
اَحْسَنَ
وَتَفْصِیْلًا
لِّكُلِّ
شَیْءٍ
وَّهُدًی
وَّرَحْمَةً
لَّعَلَّهُمْ
بِلِقَآءِ
رَبِّهِمْ
یُؤْمِنُوْنَ
۟۠
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی نیک کام کرنے والوں پر اپنی نعمت پوری کرنے کے ليے اور ہر بات کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت، تاکہ وہ اپنے رب کے ملنے کا یقین کریں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
جنوں نے قرآن حکیم سنا ٭٭…
امام ابن جریر نے تو لفظ «ثُمَّ» کو ترتیب کے لیے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے، لیکن میں کہتا ہوں «ثُمَّ» کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کر دیں تو کیا حرج؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت «وَأ
جنوں نے قرآن حکیم سنا ٭٭…
امام ابن جریر نے تو لفظ «ثُمَّ» کو ترتیب کے لیے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے، لیکن