الأنعام 6:154 ثم اتينا موسى الكتاب تماما على الذي احسن وتفصيلا لكل شيء وهدى ورحمة لعلهم بلقاء ربهم يومنون ١٥٤
ثُمَّ
اٰتَیْنَا
مُوْسَی
الْكِتٰبَ
تَمَامًا
عَلَی
الَّذِیْۤ
اَحْسَنَ
وَتَفْصِیْلًا
لِّكُلِّ
شَیْءٍ
وَّهُدًی
وَّرَحْمَةً
لَّعَلَّهُمْ
بِلِقَآءِ
رَبِّهِمْ
یُؤْمِنُوْنَ
۟۠
Phir humne Moosa ko kitab ata ki thi jo bhalayi ki rawish ikhtiyar karne waley Insan par niyamat ki takmeel aur har zaroori cheez ki tafseel aur sarasar hidayat aur rehmat thi (aur isliye bani israel ko di gayi thi ke) shayad log apne Rubb ki mulaqat par iman layein
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جنوں نے قرآن حکیم سنا ٭٭…
امام ابن جریر نے تو لفظ «ثُمَّ» کو ترتیب کے لیے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے، لیکن میں کہتا ہوں «ثُمَّ» کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کر دیں تو کیا حرج؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت «وَأ
جنوں نے قرآن حکیم سنا ٭٭…
امام ابن جریر نے تو لفظ «ثُمَّ» کو ترتیب کے لیے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے، لیکن