الأنعام 6:153 وان هاذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله ذالكم وصاكم به لعلكم تتقون ١٥٣
وَاَنَّ
هٰذَا
صِرَاطِیْ
مُسْتَقِیْمًا
فَاتَّبِعُوْهُ ۚ
وَلَا
تَتَّبِعُوا
السُّبُلَ
فَتَفَرَّقَ
بِكُمْ
عَنْ
سَبِیْلِهٖ ؕ
ذٰلِكُمْ
وَصّٰىكُمْ
بِهٖ
لَعَلَّكُمْ
تَتَّقُوْنَ
۟
(1۰) نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اِسی پر چلو اور دُوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اُس کے راستے سے ہٹاکر تمہیں پراگندہ کردیں گے۔135 یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کَج روی سے بچو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطانی راہیں فرقہ سازی ٭٭…
یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول تو یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لیے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے۔“
مسند میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ ع
شیطانی راہیں فرقہ سازی ٭٭…
یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول تو یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دی