الأنعام 6:152 ولا تقربوا مال اليتيم الا بالتي هي احسن حتى يبلغ اشده واوفوا الكيل والميزان بالقسط لا نكلف نفسا الا وسعها واذا قلتم فاعدلوا ولو كان ذا قربى وبعهد الله اوفوا ذالكم وصاكم به لعلكم تذكرون ١٥٢
وَلَا
تَقْرَبُوْا
مَالَ
الْیَتِیْمِ
اِلَّا
بِالَّتِیْ
هِیَ
اَحْسَنُ
حَتّٰی
یَبْلُغَ
اَشُدَّهٗ ۚ
وَاَوْفُوا
الْكَیْلَ
وَالْمِیْزَانَ
بِالْقِسْطِ ۚ
لَا
نُكَلِّفُ
نَفْسًا
اِلَّا
وُسْعَهَا ۚ
وَاِذَا
قُلْتُمْ
فَاعْدِلُوْا
وَلَوْ
كَانَ
ذَا
قُرْبٰی ۚ
وَبِعَهْدِ
اللّٰهِ
اَوْفُوْا ؕ
ذٰلِكُمْ
وَصّٰىكُمْ
بِهٖ
لَعَلَّكُمْ
تَذَكَّرُوْنَ
۟ۙ
(1) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاوٴ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو2 یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے،(۷) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اُتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے،3(۸) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، (۹) اور اللہ کے عہد کو پُورا کرو۔4ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ٭٭…
ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ جب آیت «وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ» اور آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا» [4-النساء:10] نازل ہوئیں تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے بالکل الگ تھلگ ک
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ٭٭…
ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ جب آیت «وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ» اور آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَ