الأنعام 6:104 قد جاءكم بصاير من ربكم فمن ابصر فلنفسه ومن عمي فعليها وما انا عليكم بحفيظ ١٠٤
قَدْ
جَآءَكُمْ
بَصَآىِٕرُ
مِنْ
رَّبِّكُمْ ۚ
فَمَنْ
اَبْصَرَ
فَلِنَفْسِهٖ ۚ
وَمَنْ
عَمِیَ
فَعَلَیْهَا ؕ
وَمَاۤ
اَنَا
عَلَیْكُمْ
بِحَفِیْظٍ
۟
(اے محمدﷺ! ان سے کہہ دو کہ) تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے ٭٭…
«بَصَائِرُ» سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے -جیسے فرمان ہے کہ «مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا» [17-الإسراء:15] ”
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے ٭٭…
«بَصَائِرُ» سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپن