الأحزاب 33:22 ولما راى المومنون الاحزاب قالوا هاذا ما وعدنا الله ورسوله وصدق الله ورسوله وما زادهم الا ايمانا وتسليما ٢٢
وَلَمَّا
رَاَ
الْمُؤْمِنُوْنَ
الْاَحْزَابَ ۙ
قَالُوْا
هٰذَا
مَا
وَعَدَنَا
اللّٰهُ
وَرَسُوْلُهٗ
وَصَدَقَ
اللّٰهُ
وَرَسُوْلُهٗ ؗ
وَمَا
زَادَهُمْ
اِلَّاۤ
اِیْمَانًا
وَّتَسْلِیْمًا
۟ؕ
اور سچّے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ 1)جب تم نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پُکار اٹھے کہ”یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسولؐ نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی2۔“اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپُردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ٹھوس دلائل اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم قرار دیتے ہیں ٭٭…
یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال احوال اقتداء پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی، مثلاً
ٹھوس دلائل اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم قرار دیتے ہیں ٭٭…
یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال