الأحقاف 46:8 ام يقولون افتراه قل ان افتريته فلا تملكون لي من الله شييا هو اعلم بما تفيضون فيه كفى به شهيدا بيني وبينكم وهو الغفور الرحيم ٨
اَمْ
یَقُوْلُوْنَ
افْتَرٰىهُ ؕ
قُلْ
اِنِ
افْتَرَیْتُهٗ
فَلَا
تَمْلِكُوْنَ
لِیْ
مِنَ
اللّٰهِ
شَیْـًٔا ؕ
هُوَ
اَعْلَمُ
بِمَا
تُفِیْضُوْنَ
فِیْهِ ؕ
كَفٰی
بِهٖ
شَهِیْدًا
بَیْنِیْ
وَبَیْنَكُمْ ؕ
وَهُوَ
الْغَفُوْرُ
الرَّحِیْمُ
۟
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو از خود بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے میرے (بچاؤ کے) لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭…
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں ک
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭…
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جات