الأحقاف 46:29 واذ صرفنا اليك نفرا من الجن يستمعون القران فلما حضروه قالوا انصتوا فلما قضي ولوا الى قومهم منذرين ٢٩
وَاِذْ
صَرَفْنَاۤ
اِلَیْكَ
نَفَرًا
مِّنَ
الْجِنِّ
یَسْتَمِعُوْنَ
الْقُرْاٰنَ ۚ
فَلَمَّا
حَضَرُوْهُ
قَالُوْۤا
اَنْصِتُوْا ۚ
فَلَمَّا
قُضِیَ
وَلَّوْا
اِلٰی
قَوْمِهِمْ
مُّنْذِرِیْنَ
۟
اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا ، شیطان بوکھلایا ٭٭…
مسند امام احمد میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ واقعہ نخلہ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہو گئے ۔ [مسند احمد:167/1:
طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا ، شیطان بوکھلایا ٭٭…
مسند امام احمد میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ واقعہ نخلہ