الأحقاف 46:24 فلما راوه عارضا مستقبل اوديتهم قالوا هاذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به ريح فيها عذاب اليم ٢٤
فَلَمَّا
رَاَوْهُ
عَارِضًا
مُّسْتَقْبِلَ
اَوْدِیَتِهِمْ ۙ
قَالُوْا
هٰذَا
عَارِضٌ
مُّمْطِرُنَا ؕ
بَلْ
هُوَ
مَا
اسْتَعْجَلْتُمْ
بِهٖ ؕ
رِیْحٌ
فِیْهَا
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟ۙ
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگو”یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا۔“۔۔۔۔ ”نہیں،1 بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ع
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبی