الأحقاف 46:20 ويوم يعرض الذين كفروا على النار اذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها فاليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تستكبرون في الارض بغير الحق وبما كنتم تفسقون ٢٠
وَیَوْمَ
یُعْرَضُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
عَلَی
النَّارِ ؕ
اَذْهَبْتُمْ
طَیِّبٰتِكُمْ
فِیْ
حَیَاتِكُمُ
الدُّنْیَا
وَاسْتَمْتَعْتُمْ
بِهَا ۚ
فَالْیَوْمَ
تُجْزَوْنَ
عَذَابَ
الْهُوْنِ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَسْتَكْبِرُوْنَ
فِی
الْاَرْضِ
بِغَیْرِ
الْحَقِّ
وَبِمَا
كُنْتُمْ
تَفْسُقُوْنَ
۟۠
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/11]
پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جا
باب…
پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحم