الأحقاف 46:15 ووصينا الانسان بوالديه احسانا حملته امه كرها ووضعته كرها وحمله وفصاله ثلاثون شهرا حتى اذا بلغ اشده وبلغ اربعين سنة قال رب اوزعني ان اشكر نعمتك التي انعمت علي وعلى والدي وان اعمل صالحا ترضاه واصلح لي في ذريتي اني تبت اليك واني من المسلمين ١٥
وَوَصَّیْنَا
الْاِنْسَانَ
بِوَالِدَیْهِ
اِحْسٰنًا ؕ
حَمَلَتْهُ
اُمُّهٗ
كُرْهًا
وَّوَضَعَتْهُ
كُرْهًا ؕ
وَحَمْلُهٗ
وَفِصٰلُهٗ
ثَلٰثُوْنَ
شَهْرًا ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
بَلَغَ
اَشُدَّهٗ
وَبَلَغَ
اَرْبَعِیْنَ
سَنَةً ۙ
قَالَ
رَبِّ
اَوْزِعْنِیْۤ
اَنْ
اَشْكُرَ
نِعْمَتَكَ
الَّتِیْۤ
اَنْعَمْتَ
عَلَیَّ
وَعَلٰی
وَالِدَیَّ
وَاَنْ
اَعْمَلَ
صَالِحًا
تَرْضٰىهُ
وَاَصْلِحْ
لِیْ
فِیْ
ذُرِّیَّتِیْ ؕۚ
اِنِّیْ
تُبْتُ
اِلَیْكَ
وَاِنِّیْ
مِنَ
الْمُسْلِمِیْنَ
۟
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا۔ اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے۔ اور میرے لئے میری اولاد میں صلاح (وتقویٰ) دے۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭…
اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔
جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّ
والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭…
اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں با