وَكَذٰلِكَ
اَعْثَرْنَا
عَلَیْهِمْ
لِیَعْلَمُوْۤا
اَنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ
وَّاَنَّ
السَّاعَةَ
لَا
رَیْبَ
فِیْهَا ۗۚ
اِذْ
یَتَنَازَعُوْنَ
بَیْنَهُمْ
اَمْرَهُمْ
فَقَالُوا
ابْنُوْا
عَلَیْهِمْ
بُنْیَانًا ؕ
رَبُّهُمْ
اَعْلَمُ
بِهِمْ ؕ
قَالَ
الَّذِیْنَ
غَلَبُوْا
عَلٰۤی
اَمْرِهِمْ
لَنَتَّخِذَنَّ
عَلَیْهِمْ
مَّسْجِدًا
۟
Akka ay sen ten Nessken, iwakken ad éôen ar lemâahda n Öebbi d tidep; u, $ef yimir, ur illi ccekk. Mi mqellaân $ef lameô nnsen, nnan: "bnut axxam sennig sen. Mass nnsen Yif akw akken iten Issen". Nnan wid iwumi iâadda wawal, $ef lameô nnsen: "a nerr, ihi, lemqam sennig sen".
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دوبارہ جینے کی حجت ٭٭…
ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر آگاہ کر دیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی
دوبارہ جینے کی حجت ٭٭…
ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر آگاہ کر دیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم