سَیَقُوْلُوْنَ
ثَلٰثَةٌ
رَّابِعُهُمْ
كَلْبُهُمْ ۚ
وَیَقُوْلُوْنَ
خَمْسَةٌ
سَادِسُهُمْ
كَلْبُهُمْ
رَجْمًا
بِالْغَیْبِ ۚ
وَیَقُوْلُوْنَ
سَبْعَةٌ
وَّثَامِنُهُمْ
كَلْبُهُمْ ؕ
قُلْ
رَّبِّیْۤ
اَعْلَمُ
بِعِدَّتِهِمْ
مَّا
یَعْلَمُهُمْ
اِلَّا
قَلِیْلٌ ۫۬
فَلَا
تُمَارِ
فِیْهِمْ
اِلَّا
مِرَآءً
ظَاهِرًا ۪
وَّلَا
تَسْتَفْتِ
فِیْهِمْ
مِّنْهُمْ
اَحَدًا
۟۠
اب یہ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے ان کا چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے ان کا چھٹا ان کا کتا تھا یہ سب تیر تکے چلا رہے ہیں اندھیرے میں اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ سات تھے اور ان کا آٹھواں ان کا کتا تھا آپ کہیے : میرا رب بہتر جانتا ہے ان کی تعداد کو نہیں جانتے ان (کے معاملے) کو مگر بہت تھوڑے لوگ تو (اے نبی) آپ ان کے بارے میں جھگڑا مت کریں سوائے سرسری بحث کے اور نہ ہی آپ پوچھئے ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اصحاف کہف کی تعداد ٭٭…
لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں کچھ کا کچھ کہا کرتے تھے۔ تین قسم کے لوگ تھے۔ چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ پہلے دو کے اقوال کو تو ضعیف کر دیا کہ یہ اٹکل کے تکے ہیں، بے نشانے کے پتھر ہیں کہ اگر کہیں لگ جائیں تو کمال نہیں، نہ لگیں تو زوال نہیں۔ ہاں تیسرا قول بیان فرما کر سکوت اختیار فرما
اصحاف کہف کی تعداد ٭٭…
لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں کچھ کا کچھ کہا کرتے تھے۔ تین قسم کے لوگ تھے۔ چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ پہلے دو کے اقوال کو تو ضعیف ک