登入
为我们的使命做出贡献
捐
为我们的使命做出贡献
捐
登入
登入
选择语言
75:24
ووجوه يوميذ باسرة ٢٤
وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۭ ٢٤
وَوُجُوهٞ
يَوۡمَئِذِۭ
بَاسِرَةٞ
٢٤
在那日,许多面目是愁苦的,
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
75:18至75:25节的经注
باب

بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے ۔ [صحیح بخاری:4927] ‏۔

ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں ۔

10051

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔

پھر فرمان ہوتا ہے کہ ” ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے “۔

جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے [صحیح بخاری:7434] ‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔

صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ ۔ [صحیح بخاری:7437] ‏

بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ ۔ [صحیح بخاری:573] ‏

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے ۔ [صحیح بخاری:4878] ‏

10052

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ” کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ “ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] ‏ یعنی ” احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی “۔ [صحیح مسلم:181] ‏

صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا ۔ [صحیح مسلم:191] ‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ ۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔

ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83-المطففين:15] ‏ یعنی ” فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے “۔

امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

10053

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» [3-آل عمران:106] ‏ ” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو “۔

اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» [80-عبس:38-42] ‏ یعنی ” اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے “۔

اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏، یعنی ” قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے “۔

پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» [88-الغاشية:10-8] ‏، یعنی ” بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے “، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

10054
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有