登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
19:60
الا من تاب وامن وعمل صالحا فاولايك يدخلون الجنة ولا يظلمون شييا ٦٠
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْـًۭٔا ٦٠
إِلَّا
مَن
تَابَ
وَءَامَنَ
وَعَمِلَ
صَٰلِحٗا
فَأُوْلَٰٓئِكَ
يَدۡخُلُونَ
ٱلۡجَنَّةَ
وَلَا
يُظۡلَمُونَ
شَيۡـٔٗا
٦٠
但悔罪而信道,且行善者除外,他们将入乐园,不受丝毫亏待。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
19:59至19:60节的经注
حدود الہٰی کے محافظ ٭٭

نیک لوگوں کا خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جو حدود الٰہی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے، بدیوں سے بچتے تھے۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بے پرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل و بہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ گئے، انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا، بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑ بیٹھنا ہے۔ اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔

یہی ایک قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ بندے کے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے ۔ [صحیح مسلم:82] ‏

دوسری حدیث میں ہے کہ ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے، جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا ۔ [سنن ترمذي:2621،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔‏“ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”یہ تو کفر ہے۔‏“

مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں، پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا، ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔‏“

صفحہ نمبر5113

عطابن ابو رباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے، بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو، قاری تین قسم کے ہوتے ہیں۔ مومن، منافق اور فاجر ۔ راوی حدیث ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا، ”ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔‏“ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:258:حسن] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے ۔ [مستدرک حاکم:244/2:منقطع] ‏ محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ ”مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5114

حضرت کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشاء کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کر کے پیٹو بن کرکھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو اشہب عطا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، داؤد علیہ السلام پر وحی آئی کہ ”اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں، جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں۔ جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں۔‏“

مسند احمد میں ہے، مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے ۔ [مسند احمد:156/4:حسن] ‏

صفحہ نمبر5115

«غَیّاً» کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” «غی» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔‏“

ابن جریر میں ہے، لقمان بن عامر فرماتے ہیں، میں ابوامامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا، سنو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھینکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے ۔ غی کا ذکر آیت «فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا» [19-مريم:59] ‏ میں ہے اور اثام کا ذکر آیت «وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] ‏ میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23790:] ‏ اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث سند کی رو سے بھی غریب ہے۔

پھر فرماتا ہے ” ہاں جو ان کاموں سے توبہ کر لے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا، اس کی عاقبت سنوار دے گا، اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے “۔

اور حدیث میں ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ ۔ [سنن ابن ماجه:4250،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

یہ لوگ جو نیکیاں کریں، ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہو گا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہو گی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے۔ سورۃ الفرقان میں «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:68-70] ‏ گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنأ کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔

صفحہ نمبر5116
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有