登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
19:41
واذكر في الكتاب ابراهيم انه كان صديقا نبيا ٤١
وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَـٰبِ إِبْرَٰهِيمَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقًۭا نَّبِيًّا ٤١
وَٱذۡكُرۡ
فِي
ٱلۡكِتَٰبِ
إِبۡرَٰهِيمَۚ
إِنَّهُۥ
كَانَ
صِدِّيقٗا
نَّبِيًّا
٤١
你应当在这部经典里提及易卜拉欣,他原是一个虔诚的人,又是一个先知。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

آیت 41 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِبْرٰہِیْمَط اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ ”صِدِّیقًا نَبِیًّا ایک نئی ترکیب ہے ‘ جو قرآن حکیم میں یہاں پہلی مرتبہ آئی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور آیت 56 میں حضرت ادریس علیہ السلام کو صِدِّیقاً نَبِیًّا فرمایا گیا ہے ‘ جبکہ آیات 51 اور 54 میں بالترتیب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو رَسُولاً نَّبِیًّا کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ گویا یہ دو الگ الگ تراکیب ہیں اور ظاہر ہے کہ ہر ایک کا اپنا الگ مفہوم ہے۔ اگرچہ میرے علم کی حد تک ان الفاظ یا تراکیب کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی ‘ بلکہ مجھے اس وقت سخت حیرت ہوئی جب میں نے ایک معروف عالم دین اور مفسر قرآن سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ کیا واقعی ایسا ہے ؟ یعنی کیا واقعی قرآن میں دو انبیاء کے بارے میں صِدِّیقًا نَبِیًّا اور دو کے بارے میں رَسُوْلًا نَّبِیًّا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ؟ وہ خود قرآن کی مکمل تفسیر لکھ چکے تھے مگر اس طرف ان کا دھیان ہی نہیں گیا تھا۔ بہر حال میں چاہتا ہوں کہ یہ نکتہ جس حد تک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر منکشف فرمایا ہے اس حد تک میں دوسروں تک پہنچا دوں۔ ان دو تراکیب کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے تو سورة الفاتحہ کی یہ آیات مدنظر رکھیں جن میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں : اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ”اے اللہ ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا ‘ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا“۔ اور پھر سورة النساء کی اس آیت پر غور کریں جس میں ان لوگوں کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا ہے : وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْنَیْ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَج وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا ۔ اس آیت میں ان لوگوں کے چار درجات بیان ہوئے ہیں جو مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان میں سب سے اوپر انبیاء کا درجہ ہے ‘ پھر صدیقین کا ‘ پھر شہداء کا اور نیچے base line پر صالحین ہیں ‘ یعنی نیک دل ‘ مخلص مسلمان جو صادق القول اور صادق الایمان ہیں۔ اگر نیچے سے اوپر کی طرف ارتقاء کے حوالے سے دیکھاجائے تو base line پر پہلا درجہ مؤمنین صالحین کا ہے۔ اگر کوئی اس درجہ سے ترقی کرے گا تو اس کے لیے درجہ شہادت ہے اور پھر اس سے اوپر درجہ صدیقیت۔ اس لحاظ سے درجہ صدیقیت گویا کسی بھی انسان کے لیے روحانی ترقی کے مدارج میں بلند ترین درجہ ہے ‘ کیونکہ اس کے اوپر نبوت کا درجہ ہے ‘ جو اکتسابی نہیں ‘ سراسر وہبی ہے اور اب وہ دروازہ نوع انسانی کے لیے مستقل طور پر بند ہوچکا ہے۔rِصدیقینّ اور شہداء کے فرق کو سائیکالوجی کی دو جدید اصطلاحات کے ذریعے اس طرح سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف مزاج پر پیدا فرمایا ہے۔ مزاج اور رویے کے اعتبار سے جدید سائیکالوجی انسانوں کو بنیادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم کرتی ہے۔ جو لوگ مجلس پسند ہوں ‘ تنہائی سے گھبراتے ہوں ‘ ہر وقت سیر سپاٹے کرنے ‘ لوگوں سے ملنے جلنے اور خوش گپیوں میں خوش رہتے ہوں ‘ انہیں بیروں بیں exroverts کہا جاتا ہے۔ ان کے برعکس تنہائی پسند ‘ غور وفکر کرنے والے ‘ اپنے خیالوں میں مگن رہنے اور محفلوں سے حتی المقدور اجتناب کرنے والے لوگ دروں بین introverts کہلاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک تیسری کیفیت ان دو رویوں کے خوبصورت توازن سے پیدا ہوتی ہے۔ چناچہ ایسے لوگ جن کی شخصیات میں مذکورہ دونوں رویے توازن کے ساتھ موجود ہوں وہ ambiverts کہلاتے ہیں ‘ لیکن ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ ایک شخص میں دونوں رویے توازن کے ساتھ موجود ہوں۔ اس لیے ambiverts قسم کے لوگ عملاً بہت ہی کم ہوتے ہیں اور عمومی طور پر دنیا میں مزاج کے اعتبار سے مندرجہ بالا دو اقسام کے لوگ ہی پائے جاتے ہیں۔ دروں بین introverts قسم کے لوگ غور و فکر کی عادت کے باعث فطرت کے حقائق کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ کائنات کے بارے میں سوچ بچار کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی آفاقی آیات ان سے ہم کلام ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں اہم حقائق ان پر منکشف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کی راہنمائی میں اللہ کو بھی پہچان لیتے ہیں ‘ آخرت کی ضرورت اور حقیقت کو بھی سمجھ لیتے ہیں اور یہ بھی جان جاتے ہیں کہ بندگی صرف اللہ ہی کی کرنی چاہیے۔ لیکن بندگی کا طریقہ کیا ہو ؟ اس کا انہیں علم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے وہ اللہ سے راہنمائی کی التجا کرتے ہیں : اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ الفاتحہ۔ یہ لوگ دراصل صدیقین ہوتے ہیں اور ان کی شان یہ ہے کہ جونہی کوئی الہامی دعوت ان تک پہنچتی ہے وہ اسے اس انداز میں لپک کر قبول کرتے ہیں گویا مدت سے اسی کے منتظر بیٹھے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رض کے قبول اسلام کا واقعہ اس حقیقت پر شاہد ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ میں نے جس کے سامنے بھی ایمان کی دعوت پیش کی اس نے کچھ نہ کچھ تو قف ضرور کیا ‘ سوائے ابوبکر رض کے۔ یعنی آپ رض نے ایک لمحے کے لیے بھی توقف نہیں کیا اور دعوت پر ایسے لبیک کہا جیسے وہ اس کے انتظار میں بیٹھے تھے۔البتہ بیروں بین extroverts قسم کے لوگ چونکہ خود کو کھیل کود ‘ سیرو شکار ‘ میل ملاقات وغیرہ میں مصروف رکھتے ہیں ‘ اس لیے ان کا طبعی میلان غور و فکر کی طرف نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ کسی الہامی دعوت کو سمجھنے میں ہمیشہ دیر کردیتے ہیں ‘ اور جب وہ کسی ایسے معاملے کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں تو اکثر جذباتی انداز میں ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ کسی نظریے یا دعوت کو قبول کرلیتے ہیں تو عام طور پر زیادہ متحرک اور فعال ثابت ہوتے ہیں اور یوں مسابقت میں بظاہر introverts سے آگے نکل جاتے ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ کی دعوت کو حضرت ابو بکرصدیق رض نے جہاں ایک لمحے کے توقف کے بغیر قبول کرلیا وہاں حضرت عمر اور حضرت حمزہ رض کو اس طرف متوجہ ہونے میں چھ سال لگ گئے۔ حضرت عمر رض تو بنو عدی میں سے تھے اور آپ رض کی حضور ﷺ کے ساتھ بظاہر زیادہ قربت نہیں تھی ‘ مگر حضرت حمزہ رض تو آپ ﷺ کے سگے چچا اور دودھ شریک تھے۔ وہ بچپن میں آپ ﷺ کے ساتھ کھیلے تھے اور آپ ﷺ سے بہت محبت بھی کرتے تھے ‘ لیکن اس سب کچھ کے باوجود چھ سال تک آپ رض نے حضور ﷺ کی دعوت کی طرف کبھی سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا اور جب ایمان لائے تو حادثاتی اور جذباتی انداز میں لائے۔ایک روز شکار سے واپس آئے تو ابھی گھر میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے کہ لونڈی نے حضور ﷺ سے ابوجہل کی گستاخی کے بارے میں خبر دی۔ بس یہ سنتے ہی آگ بگولا ہوگئے۔ گھر جانے کے بجائے سیدھے ابوجہل کے پاس پہنچے۔ جاتے ہی اس کے سر پر کمان دے ماری اور اسے للکارا کہ آج سے میں بھی ایمان لے آیا ہوں ‘ تم میرا مقابلہ کرسکتے ہو تو آؤ میدان میں ! ایسے ہی حضرت عمر رض بھی جذباتی انداز میں ایمان لائے۔ گھر سے محمد رسول اللہ ﷺ کو معاذ اللہ ! قتل کرنے کے ارادے سے نکلے۔ جذبات کی رو میں ہی بہن اور بہنوئی سے جا الجھے۔ بہن کی غیر معمولی استقامت دیکھی تو سوچنے پر مجبور ہوئے اور جب سنجیدگی سے غور کیا تو یکدم دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ پھر کیا تھا ؟ وہی شمشیر برہنہ جو قتل کے ارادے سے لے کر نکلے تھے ‘ گردن میں لٹکائے غلاموں کی طرح در نبوت پر حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ بہر حال اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ دروں بین introverts قسم کے لوگ صدیقین اور بیروں بین extroverts مزاج کے افراد شہداء ہوتے ہیں۔ انسانی مزاج کا یہ فرق انبیاء کی شخصیات میں بھی پایا جاتا ہے۔ کچھ انبیاء کا مزاج صدیقین سے مناسبت رکھتا ہے اور کچھ کا شہداء سے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں روایات ہیں کہ آپ ﷺ شکار کے بہت شوقین تھے اور اسی شوق میں کئی کئی دن گھر سے باہر رہتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام دو مرتبہ آپ علیہ السلام سے ملنے کے لیے گئے ‘ مگر آپ علیہ السلام کے گھر سے باہر ہونے کی وجہ سے دونوں مرتبہ باپ بیٹے کی ملاقات نہ ہوسکی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزاج بھی جلالی تھا۔ آپ علیہ السلام نے مصر میں ایک آدمی کو مکاّ رسید کیا تو اس کی جان ہی نکل گئی۔ انسانی مزاج کی اس تشریح کے اعتبار سے میرا خیال ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت ادریس علیہ السلام کی شخصیات صدیقیت کے ساتھ مناسبت رکھتی تھیں ‘ اس لیے وہ صدیق نبی قرار پائے ‘ جبکہ حضرت اسماعیل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شخصیات شہداء جیسی تھیں ‘ چناچہ وہ رسول نبی کہلائے۔ اس سلسلے میں یہ نکتہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ رسالت اور شہادت کے الفاظ کی آپس میں خصوصی مناسبت ہے۔ ہر رسول کو اپنی قوم کی طرف شاہد بنا کر بھیجا گیا۔ کار رسالت یعنی دعوت و تبلیغ اور اتمام حجت میں عمل کا پہلو غالب ہے۔ حضور ﷺ کے بارے میں بھی سورة الاحزاب میں فرمایا گیا : یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ”اے نبی ! بلاشبہ ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا“۔ اسی طرح سورة النساء میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ”پھر کیا حال ہوگا جب ہم لائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ اور اے نبی ﷺ ! آپ کو ہم لائیں گے ان پر گواہ“۔ اس ساری وضاحت کاُ لبّ لباب یہ ہے کہ مذکورہ آیات میں شہداء کا مزاج رکھنے والے انبیاء کو رَسُولاً نَّبِیًّا اور صدیقیت کے مزاج کے حامل انبیاء کو صِدِّیقاً نَبِیًّا کے لقب سے یاد فرمایا گیا ہے۔ سورة الحدید کے مطالعے کے دوران اس کی آیت 19 : اُولٰٓءِکَ ہُمُ الصِّدِّیْقُوْنَق وَالشُّہَدَآءُ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط کے حوالے سے اس موضوع پر ان شاء اللہ مزید گفتگو ہوگی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有