Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
40:50
قالوا اولم تك تاتيكم رسلكم بالبينات قالوا بلى قالوا فادعوا وما دعاء الكافرين الا في ضلال ٥٠
قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۚ قَالُوا۟ فَٱدْعُوا۟ ۗ وَمَا دُعَـٰٓؤُا۟ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ ٥٠
قَالُوٓاْ
أَوَلَمۡ
تَكُ
تَأۡتِيكُمۡ
رُسُلُكُم
بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ
قَالُواْ
بَلَىٰۚ
قَالُواْ
فَٱدۡعُواْۗ
وَمَا
دُعَٰٓؤُاْ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
إِلَّا
فِي
ضَلَٰلٍ
٥٠
(Các Thiên Thần cai quản Hỏa Ngục) bảo: “Chẳng lẽ các vị Thiên Sứ của các ngươi đã không mang đến cho các ngươi những bằng chứng rõ rệt sao?” Chúng nói: “Vâng, có!” (Các Thiên Thần cai quản Hỏa Ngục) bảo chúng: “Vậy các ngươi hãy tự cầu xin.” Tuy nhiên, (vào Ngày hôm đó) lời cầu xin của những kẻ vô đức sẽ không bao giờ được chấp nhận.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 50 { قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”وہ جواب میں کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول علیہ السلام نہیں آتے رہے تھے واضح نشانیوں اور واضح تعلیمات کے ساتھ ؟“ { قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں آئے تو تھے !“ { قَالُوْا فَادْعُوْاج وَمَا دُعٰٓؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ } ”وہ کہیں گے : تو اب تم خود ہی پکارو ! اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بھٹک کر رہ جانے والی۔“ دنیا کی زندگی میں جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی تھی آج ان کی دعا بالکل صدا بصحرا ثابت ہوگی۔ ان لوگوں کی دعا کا نہ کوئی اثر ہوگا اور نہ ہی اس کی کہیں شنوائی ہوگی۔ بالکل یہی کیفیت ان لوگوں کی بھی ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں تو مانگتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی حرام خوری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باطل کی چاکری بھی کیے جا رہے ہیں ‘ طاغوت کے حمایتی بھی بنے ہوئے ہیں اور اپنی سوچ اور فکر کو باطل طور طریقوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے نت نئی راہیں بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ گویا ان کی وفاداری اور دوستی تو شیطان اور اس کے چیلوں سے ہوتی ہے مگر دعا اللہ سے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو بڑا طویل سفر کر کے حج یا عمرہ کے لیے آتا ہے۔ اس کے کپڑے بھی میلے ہوچکے ہیں اور بال بھی غبار آلودہ ہیں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر ”یارب ! یارب !“ پکارتا ہے۔ لیکن اس کا کھانا بھی حرام کا ہے ‘ اس کا پینا بھی حرام کا ہے ‘ اس نے جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ بھی حرام کمائی کے ہیں ‘ اور اس کے جسم نے حرام غذا سے نشوونما پائی ہے۔ -۔ تو اس کی دعا کیونکر قبول ہو ؟ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ! 1 1971 ء کی جنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی نصرت کے لیے حرمین شریفین میں قنوت نازلہ پڑھی جاتی تھی اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگی جاتی تھیں ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے اپنے گھر کے اندر مانگی گئی ان دعائوں کو بھی ٹھکرا دیا اور جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا۔ لفظ ”کافر“ کو اس کے وسیع مفہوم کے تناظر میں رکھ کر غور کیجیے کہ اس کی زد کہاں کہاں پڑتی ہے۔ اس کا مصداق قانونی کفار کے علاوہ وہ لوگ بھی ٹھہرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سورة آل عمران کی آیت 97 کے آخر میں سنائی گئی وعید بہت واضح ہے۔ مذکورہ آیت میں حج کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا : { وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور جس نے کفر کیا تو وہ جان لے کہ اللہ بےنیاز ہے تمام جہان والوں سے“۔ یعنی جس نے صاحب استطاعت ہو کر بھی حج ادا نہیں کیا اس نے گویا کفر کیا۔ اسی طرح تارک صلوٰۃ کے بارے میں حضور ﷺ کا بہت مشہور فرمان ہے : مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ مُتَعَمِدًا فَقَدْ کَفَرَجِھَارًا 1 ”جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے علانیہ کفر کیا۔“ پس ایک کفر تو وہ ہے جس سے ایک مسلمان باقاعدہ مرتد ہو کر سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے اور ایک کفر یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے کسی خاص حکم کی نافرمانی سے سرزد ہوتا ہے اور جس کو کسی صاحب نظر نے ”جو دم غافل سو دم کافر“ کا عنوان دیا ہے۔ اس زاویئے سے دیکھا جائے تو آج پوری دنیا کے مسلمان اس کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو اس بارے میں یہ ہے : { وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ۔ } المائدۃ ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں“۔ چناچہ ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اس حوالے سے آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ہم جس ملک کے شہری ہیں کیا وہاں شریعت اسلامی کی حکمرانی ہے ؟ کیا ہمارے دیوانی و فوجداری معاملات قرآن کے قانون کے مطابق طے پا رہے ہیں ؟ کیا ہمارا نظام معیشت اللہ کی مرضی کے مطابق چل رہا ہے ؟ اور اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو کیا ہم سورة المائدۃ کی مذکورہ آیت کے مصداق نہیں بن چکے ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Quyên góp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.