يوسف 12:96 فلما ان جاء البشير القاه على وجهه فارتد بصيرا قال الم اقل لكم اني اعلم من الله ما لا تعلمون ٩٦
فَلَمَّاۤ
اَنْ
جَآءَ
الْبَشِیْرُ
اَلْقٰىهُ
عَلٰی
وَجْهِهٖ
فَارْتَدَّ
بَصِیْرًا ۚ
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
لَّكُمْ ۙۚ
اِنِّیْۤ
اَعْلَمُ
مِنَ
اللّٰهِ
مَا
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
تو جب آیا بشارت دینے والا اور اس نے ڈالا اس (قمیص) کو یعقوب کے چہرے پر تو آپ پھر سے ہوگئے دیکھنے والے آپ نے فرمایا : کیا میں تم سے کہتا نہیں تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جو تم نہیں جانتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف علیہ السلام کا خون ہے، اب بدلے کے لیے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہو جائے ب
باب…
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے