يوسف 12:78 قالوا يا ايها العزيز ان له ابا شيخا كبيرا فخذ احدنا مكانه انا نراك من المحسنين ٧٨
قَالُوْا
یٰۤاَیُّهَا
الْعَزِیْزُ
اِنَّ
لَهٗۤ
اَبًا
شَیْخًا
كَبِیْرًا
فَخُذْ
اَحَدَنَا
مَكَانَهٗ ۚ
اِنَّا
نَرٰىكَ
مِنَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
Unhon ne kaha “aey sardar zi-iqtedar (Aziz), iska baap bahut booda aadmi hai, iski jagah aap hum mein se kisi ko rakh lijiye. Hum aapko bada hi neik nafs Insaan patey hain.”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھہر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لیے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہو چکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے
باب…
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھہر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اس