يوسف 12:65 ولما فتحوا متاعهم وجدوا بضاعتهم ردت اليهم قالوا يا ابانا ما نبغي هاذه بضاعتنا ردت الينا ونمير اهلنا ونحفظ اخانا ونزداد كيل بعير ذالك كيل يسير ٦٥
وَلَمَّا
فَتَحُوْا
مَتَاعَهُمْ
وَجَدُوْا
بِضَاعَتَهُمْ
رُدَّتْ
اِلَیْهِمْ ؕ
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
مَا
نَبْغِیْ ؕ
هٰذِهٖ
بِضَاعَتُنَا
رُدَّتْ
اِلَیْنَا ۚ
وَنَمِیْرُ
اَهْلَنَا
وَنَحْفَظُ
اَخَانَا
وَنَزْدَادُ
كَیْلَ
بَعِیْرٍ ؕ
ذٰلِكَ
كَیْلٌ
یَّسِیْرٌ
۟
Phir jab unhon ne apna samaan khola to dekha ke unka maal bhi unhein wapas kardiya gaya hai. Yeh dekh kar woh pukar utthey “abbajaan, aur humein kya chahiye, dekhiye yeh hamara maal bhi humein wapas de diya gaya hai. Bas ab hum jayenge aur apne ehal o ayal ke liye rasad (provisions of food) le ayenge , apne bhai ki hifazat bhi karenge aur ek barishtar (an extra camel load of corn) aur zyada bhi le ayenge. Inte galley ka izafa aasani ke saath ho jayega”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی علیہ السلام نے ان کا مال ومتاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کر دیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور
باب…
یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی علیہ السلام نے ان کا مال ومتاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کر دیا تھا۔ یہا