يوسف 12:50 وقال الملك ايتوني به فلما جاءه الرسول قال ارجع الى ربك فاساله ما بال النسوة اللاتي قطعن ايديهن ان ربي بكيدهن عليم ٥٠
وَقَالَ
الْمَلِكُ
ائْتُوْنِیْ
بِهٖ ۚ
فَلَمَّا
جَآءَهُ
الرَّسُوْلُ
قَالَ
ارْجِعْ
اِلٰی
رَبِّكَ
فَسْـَٔلْهُ
مَا
بَالُ
النِّسْوَةِ
الّٰتِیْ
قَطَّعْنَ
اَیْدِیَهُنَّ ؕ
اِنَّ
رَبِّیْ
بِكَیْدِهِنَّ
عَلِیْمٌ
۟
Baadshah ne kaha usey mere paas lao. Magar jab shahi faristaada (royal envoy) Yusuf ke paas pahuncha to usne kaha “apne Rubb ke paas wapas ja aur ussey puch ke un auraton ka kya maamla hai jinhon ne apne haath kat liye thay? Mera Rubb to unki makkari se waqif hi hai.”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف علیہ السلام کو وزارت سونپنا ٭٭…
خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آ گیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ علیہ ا
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف علیہ السلام کو وزارت سونپنا ٭٭…
خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو