وَقَالَ
الَّذِی
اشْتَرٰىهُ
مِنْ
مِّصْرَ
لِامْرَاَتِهٖۤ
اَكْرِمِیْ
مَثْوٰىهُ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّنْفَعَنَاۤ
اَوْ
نَتَّخِذَهٗ
وَلَدًا ؕ
وَكَذٰلِكَ
مَكَّنَّا
لِیُوْسُفَ
فِی
الْاَرْضِ ؗ
وَلِنُعَلِّمَهٗ
مِنْ
تَاْوِیْلِ
الْاَحَادِیْثِ ؕ
وَاللّٰهُ
غَالِبٌ
عَلٰۤی
اَمْرِهٖ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
اور اہل مصر میں سے جس شخص نے اس کو خریدا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو اچھی طرح رکھو امید ہے کہ وہ ہمارے ليے مفید ہو یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اوراس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں جگہ دی اور تاکہ ہم اس کو باتوں کی تاویل سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب رہتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
بازار مصر سے شاہی محل تک ٭٭…
رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ علیہ السلام کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ علیہ السلام کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔
بازار مصر سے شاہی محل تک ٭٭…
رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ علیہ السلام کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کی عزت و وقعت ڈال دی